
عام طور پر لوگ اس حقیقت سے آگاہ نہیں کہ چین اُن ممالک میں شامل ہے جہاں اسلام اپنے ابتدائی […]
عام طور پر لوگ اس حقیقت سے آگاہ نہیں کہ چین اُن ممالک میں شامل ہے جہاں اسلام اپنے ابتدائی دور ہی میں پہنچ گیا تھا۔ یہ ایک مسلمہ تاریخی حقیقت ہے کہ چین میں ایک ایسی مسجد موجود ہے جو تقریباً 1300 سال قدیم ہے اور جسے اُن جلیل القدر صحابۂ کرامؓ میں سے ایک، حضرت سعد بن ابی وقاصؓ سے منسوب کیا جاتا ہے، جو خلفائے راشدین کے دور میں چین تشریف لے گئے تھے۔ یہی مسجد سرزمینِ چین پر تعمیر ہونے والی پہلی تاریخی مسجد سمجھی جاتی ہے۔ چینی زبان میں اس مسجد کو ”ہوا یشینگ“ (Huaisheng Mosque) کہا جاتا ہے، جبکہ عربی میں اسے ”جامع الحنین إلی النبیؐ“ (یعنی نبیِ کریمؐ کے مشتاقوں کو جمع کرنے والی مسجد) کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ فنِ تعمیر کے لحاظ سے بھی یہ مسجد غیر معمولی اہمیت کی حامل ہے۔ روایات کے مطابق اس کی بنیاد ساتویں صدی عیسوی میں 618ء کے بعد رکھی گئی۔ اس کا کبوتری شکل کا منارہ، جو تقریباً 36 میٹر بلند ہے، اپنی منفرد بناوٹ، شان و شوکت اور دلکش ہیئت کے باعث دور سے ہی نمایاں نظر آتا ہے۔ جب خلفائے راشدین کے عہد میں اسلام چین پہنچا تو ملک کے مختلف علاقوں میں مساجد کی تعمیر کا سلسلہ بھی شروع ہوگیا۔ ایک ہزار سال سے زائد عرصے میں مسلمانوں نے وہاں بے شمار عظیم اور شاندار مساجد تعمیر کیں۔ آج چین میں 30 ہزار سے زائد مساجد موجود ہیں، جن میں سے بہت سی تاریخی، ثقافتی اور فنِ تعمیر کے اعتبار سے نہایت اہم ہیں۔ یہ مساجد نہ صرف مسلمانوں کی دینی اور سماجی زندگی کے مراکز ہیں بلکہ چین کے تاریخی ورثے کا بھی قیمتی حصہ سمجھی جاتی ہیں اور اپنی قدامت و تعمیراتی حسن کی وجہ سے منفرد مقام رکھتی ہیں۔
متعبد الصفا والحق:چینی تانغ خاندان کے(618-709ء)آخری زمانے اور سونغ خاندان کے (960-1279ء)اوائل میں وہ لوگ اس مسجد کو ’’لی ہائی‘‘ (قاعۃ الاجتماع) کے نام سے جانتے تھے، پھر وہ اس کو ’’لی بالی تانغ‘‘ (قاعۃ الصلوٰۃ) یا ’’سی تانغ‘‘ یعنی المتعبد کے نام سے جاننے لگے اور تیرہویں صدی ہجری میں چینی مسلمان اس مسجد کو ’’تشینغ تثن سی‘‘ یعنی متعبد الصفا والحق کے نام سے موسوم کرنے لگے، اور یہ نام تقریباً دو صدی تک استعمال ہوتا رہا اور مسجد اسی نام سے جانی جاتی رہی، اور لفظ ’’تشینغ‘‘ (الصفا) اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ صاف اور ہر عیب و نقص سے پاک ہے، اس لیے کہ وہ کسی محدود جگہ میں نہیں ہے اور وہ اول و آخر ہے۔ اور لفظ ’’تثن‘‘ (الحق) اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ اللہ احد، اللہ الصمد، لم یلد و لم یولد، ولم یکن لہ کفوا احد۔ (یعنی اللہ ایک ہے، وہ بے نیاز ہے، نہ وہ کسی سے پیدا ہے اور نہ اس سے کوئی پیدا ہے اور اس کا ہمسر کوئی بھی نہیں ہے)۔
یہ عظیم الشان مسجد بیک وقت مسلمانوں کی دینی اور تجارتی سرگرمیوں کا مرکز تھی۔ چین میں مساجد محض عبادت گاہیں نہیں تھیں بلکہ وسیع تر معنوں میں مسلمانوں کی دینی، سماجی اور اجتماعی زندگی کے مراکز کی حیثیت رکھتی تھیں۔ یہ اسلامی دعوت کے منبر، علم کے متلاشیوں کے لیے مدارس، اور دینی تعلیم و تربیت کے مراکز تھے۔ اسی طرح شادی بیاہ کی تقریبات، میت کی تجہیز و تکفین، باہمی تنازعات کے تصفیے، صلح صفائی اور ضرورت مندوں کی مدد جیسے سماجی امور بھی مساجد ہی میں انجام پاتے تھے۔
جامع المنارہچین کی پہلی مسجد کی تعمیر کا سہرا تانگ خاندان (618ء تا 907ء) کے سر جاتا ہے۔ یہ مسجد گوانگ ژو (Guangzhou) شہر میں واقع ہے۔ اس دور میں چین اور عرب کے درمیان تجارتی اور ثقافتی روابط اپنے عروج پر تھے۔ عرب تاجروں کی بڑی تعداد خلیج عرب، خلیج بنگال اور جنوبی بحیرۂ چین کے راستے گوانگ ژو پہنچی، جو چین کا ایک اہم ساحلی اور تجارتی شہر تھا۔ ان تاجروں میں مسلمان بھی شامل تھے، جن میں سے بہت سے وہیں آباد ہوگئے۔ چنانچہ انہوں نے نماز، عبادت اور دینی ضروریات کی تکمیل کے لیے مساجد تعمیر کیں۔
ایک تاریخی روایت کے مطابق اس مسجد کا نام ”مسجد قوانغتا“ (جامع المنارہ) ہے، جو اپنے بلند مینار کی وجہ سے شہرت رکھتی ہے۔ روایت یہ بھی بیان کرتی ہے کہ اس کی تعمیر جلیل القدر صحابی حضرت سعد بن ابی وقاصؓ نے کی، جو اسلام کی دعوت پہنچانے کے لیے چین تشریف لائے تھے، اور انہوں نے اس مسجد کو اشاعتِ اسلام کا مرکز بنایا۔
مسجد میں سنگِ مرمر کی تختیوں پر کندہ عربی کتبے بھی اس روایت کی تائید کرتے ہیں۔ ان میں بیان کیا گیا ہے کہ یہ چین کی پہلی مسجد ہے، جسے حضرت سعد بن ابی وقاصؓ نے تعمیر کرایا تھا۔ مزید یہ بھی درج ہے کہ بعد کے ادوار میں اس مسجد کی کئی مرتبہ تجدید و مرمت کی گئی، اللہ تعالیٰ نے اسے مختلف آفات سے محفوظ رکھا، اور یہ چین میں اسلام، علم اور تہذیب کا ایک اہم مرکز بنی رہی۔ کتبوں میں چینی مسلمانوں کو تلقین کی گئی ہے کہ وہ مسجد کی ظاہری آرائش کے ساتھ ساتھ نماز باجماعت کے ذریعے اس کی روحانی رونق بھی برقرار رکھیں، نیز اس شہر میں دینی تعلیم کے فروغ کے لیے مدارس قائم کریں۔
یہ عربی کتبے فصیح و بلیغ زبان میں تحریر کیے گئے ہیں، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ انہیں اُن عرب مسلمانوں میں سے کسی نے لکھا ہوگا، جنہوں نے گوانگ ژو کو اپنا مستقل مسکن بنا لیا تھا۔ تاہم ان کتبوں پر تاریخ درج نہیں، اس لیے یہ تعین کرنا ممکن نہیں کہ وہ کب تحریر کیے گئے۔ مزید برآں، ان میں مسجد کی متعدد مرتبہ تجدید کا ذکر بھی ملتا ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ کتبے مسجد کی ابتدائی تعمیر کے بہت عرصے بعد تحریر کیے گئے ہوں گے۔
جہاں تک اس مسجد کی نسبت حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کی طرف کرنے کا تعلق ہے، تاریخی شواہد اس کی قطعی تائید نہیں کرتے۔ یہ بات ضرور قرینِ قیاس ہے کہ وقاص نام کا کوئی شخص اسلام کی تبلیغ کے لیے چین آیا ہو، لیکن چینی مسلمانوں میں جس وقاص کا تذکرہ مشہور ہے، اس کے حضرت سعد بن ابی وقاصؓ ہونے کے واضح تاریخی شواہد موجود نہیں۔اسلامی تاریخ سے واقف ہر شخص جانتا ہے کہ حضرت سعد بن ابی وقاصؓ عہدِ نبویؐ کے عظیم سپہ سالاروں میں شمار ہوتے تھے۔ آپؓ رسول اللہﷺ کے تربیت یافتہ صحابی تھے اور تقریباً تمام اہم غزوات میں شریک رہے۔ بعد ازاں خلیفۂ ثانی حضرت عمر بن خطابؓ نے آپؓ کو قادسیہ کی مہم پر بھیجا، جہاں آپؓ نے ایرانی افواج کے خلاف تاریخی فتح حاصل کی۔ اس کے بعد بھی آپؓ نے متعدد اہم معرکوں کی قیادت کی۔ آپؓ کا انتقال مدینہ منورہ میں 675ء (55 ہجری) میں ہوا۔
مزید اہم بات یہ ہے کہ معتبر عربی تاریخی مآخذ میں کہیں یہ ذکر نہیں ملتا کہ حضرت سعد بن ابی وقاصؓ چین تشریف لے گئے تھے۔ اس بنا پر زیادہ قرینِ قیاس یہی معلوم ہوتا ہے کہ روایت میں مذکور وقاص سے مراد حضرت سعد بن ابی وقاصؓ نہیں بلکہ اسی نام کا کوئی اور مسلمان مبلغ یا شخصیت تھی، جسے بعد کی روایات میں حضرت سعد بن ابی وقاصؓ سے منسوب کر دیا گیا۔
جامع مسجد تاریخی مصادر میں:کتاب تاریخ تینغ کے مؤلف یدوکہ نے اپنی کتاب میں اس مثالی عمدہ مسجد کا ذکر کیا ہے، یہ پہلی چینی کتاب ہے جس میں مسجد ہوایش ینغ کا ذکر کیا گیا ہے، چنانچہ مؤلف نے اپنی عمر کے دسویں سال یعنی 1192ء کے واقعات مرتب کرتے ہوئے اس مسجد کا ذکر کیا ہے جس میں یہ نوٹ لکھا ہے کہ مسجد میں ایک مینارہ ہے جس کی بلندی دس میٹر ہے اور تمام تحریریں جو اس پر کندہ ہیں وہ سب عربی زبان میں ہیں۔ لیکن اس کی تعمیر کی تاریخ کی طرف اشارہ نہیں کیا گیا ہے۔ اس کے چودہ سال بعد 1206ء میں شاعر ’’فانغ شین رو‘‘ نے دیوان شعر بعنوان ’’مأۃ أنشودۃ لبحر الصین الجنوبی‘‘ تالیف کی، اس کے اندر ایک قصیدہ بعنوان ’’تمجید المنارۃ الأجنبیۃ‘‘ تحریر کیا ہے، اس کے اختتامی حاشیے پر جو تحریر ہے وہ حسب ذیل ہے ’’بدیٔ ببناء المنارۃ الأجنبیۃ فی عھد أسرۃ تانغ، وجرت العادۃ علی تسمیتھا منارۃ ھو یشنغ و تبد و علی شکل أسطوانۃ، و یبلغ ارتفاعھا عشرات الأمتار‘‘ (اجنبی مینارہ کی تعمیر تانغ خاندان کے زمانے میں ہوئی اور یہ مینارہ ہوا یشنغ کے نام سے جانا جاتا رہا، وہ کبوتر کی شکل کا اور اونچا ہے۔ نیز ان تاریخی شواہد کے ساتھ ساتھ وہ تحریر کردہ کتبے مسجد ہوا یشینغ کی تجدید نو کے وقت کے نصب کردہ ہیں جو 1350ء میں ’’کوہ جیا‘‘ کے ہاتھ سے تحریر کیے گئے ہیں، یہ بھی اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ مسجد ’’تانغ‘‘ خاندان کے زمانے کی تعمیر شدہ ہے، یہ تمام باتیں اور مستند ثبوت اس بات پر دلالت کررہے ہیں کہ اس کی تعمیر اسی زمانے میں مکمل ہوئی ہے۔ جہاں تک تاریخی بیانات کا مسئلہ ہے وہ تو عام طور پر مسجد کی تعمیر کی تاریخ سے 300۔400 سال بعد لکھے گئے ہیں، اس لیے تاریخی تناظر میں مسجد کی تاریخ کے تعین کے لیے مستند نہیں ہوسکتے۔
الحنین إلی النبی:رہا مسجد کا نام’’الحنین إلی النبی‘‘، تو کتاب فصول تانغ السنۃ کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ مسجد جنرل ہوایشینغ کے ہاتھوں تعمیر ہوئی، لہٰذا ان ہی کے نام سے اس مسجد کو موسوم کردیا گیا، اور وہ تمام نقش و نگار اور تحریر کردہ کتبے جو مسجد کی تعمیرنو کے موقع پر نصب کیے گئے ہیں، اس بات کی طرف رہنمائی کررہے ہیں کہ یہ مسجد تانغ خاندان کے زمانے میں تعمیر ہوئی اور اسی وجہ سے اس کا نام ہوایشینغ رکھا گیا جس کے معنی ہیں ’’الحنین إلی النبی‘‘۔ اس بات پر عام طور سے تمام مؤرخین کا اتفاق ہے کہ وہ عرب مسلمان جنہوں نے شہر قرانغ تشو کو ابتدائے اسلام میں اپنا وطن بنایا تھا، ہوسکتا ہے نبیؐ ؐکے زمانے میں پروان چڑھے ہوں اور ان کا زمانہ نبیؐ کے زمانے سے دور نہ رہا ہو، یا اسی وقت یہ لوگ ان کے ہاتھوں اسلام میں داخل ہوئے ہوں اور اس کے بعد انہوں نے چین کی طرف ہجرت کی ہو اور وہاں انہوں نے مسجد الحنین إلی النبی کی تعمیر کی ہو، جس سے ان کے نبیؐ کے ساتھ جذبہ تعلق کا پتا چلتا ہے کہ اس مسجد کو ہوایشینغ نے تعمیر کیا ہے اور انہوں نے رسول اللہؐ سے اپنے گہرے جذبات و تعلق کا اظہار کرتے ہوئے اس کو نبی ؐ کے نام سے موسوم کردیاہو۔
المنارۃ العجبیۃ :اس مسجد کی اہمیت اس کی تاریخی حیثیت، شاندار تعمیر اور عربی طرزِ تعمیر کی جھلک کی وجہ سے نمایاں ہے۔ خصوصاً اس کا کبوتر کی شکل کا مینار اپنی منفرد ساخت کے باعث ممتاز مقام رکھتا ہے۔ یہ مینار زمین سے تقریباً 36 میٹر بلند ہے اور دور سے ایسا دکھائی دیتا ہے جیسے بادلوں کی بلندی پر کوئی روشن شعلہ فروزاں ہو۔ اس کے دو حصے ہیں۔ بالائی حصہ شعلے کی مانند چمکتا ہے اور یوں محسوس ہوتا ہے جیسے کوئی روشن چراغ جل رہا ہو، جبکہ نچلا حصہ اس کے مضبوط جسم کی صورت پیش کرتا ہے۔ مسجد کی دیواریں نہایت خوب صورتی اور مضبوطی کے ساتھ تعمیر کی گئی ہیں۔ یہ دو منزلہ عمارت ہے، جس میں ایک اندرونی اور دوسری بیرونی منزل ہے۔ اندرونی اور بیرونی دونوں دیواروں پر مضبوطی اور پائیداری کے لیے مٹی کا پلستر کیا گیا ہے۔ مینار کے اندر دو پیچ دار سیڑھیاں ہیں، جو ایک دوسرے سے مشابہ ہیں۔ ہر سیڑھی میں 154 زینے ہیں، اور چند زینوں کے وقفے کے بعد مینار کی دیوار میں ایک چھوٹی کھڑکی بنائی گئی ہے، جس سے اندر روشنی پہنچتی رہتی ہے۔ یہی منفرد تعمیراتی خصوصیات اس مینار کو غیر معمولی اہمیت عطا کرتی ہیں اور اسے قوانغ ژو کے تاریخی آثار میں ایک ممتاز مقام دلاتی ہیں۔ چین میں اس مینار کی بناوٹ، ہیئت اور طرزِ تعمیر وہاں کے روایتی پاگوڈا طرزِ تعمیر سے بالکل مختلف ہے۔ یہ مکمل طور پر اسلامی طرزِ تعمیر کا نمونہ ہے اور صدیوں گزر جانے کے باوجود آج بھی اسلامی تہذیب و ثقافت کی جیتی جاگتی علامت دکھائی دیتا ہے۔ ساتھ ہی یہ چین اور عرب دنیا کے درمیان صدیوں پر محیط تہذیبی اور ثقافتی روابط کی ایک روشن یادگار بھی ہے۔
عمارۃ الجامع :یہ جامع مسجد اپنی تاریخ میں تعمیر اور انہدام کے دور سے گزرتی رہی ہے ، مسجد کی تعمیر نو کے موقع پر جو نقش و نگار بنائے گئے ہیں ان سے اس کی تاریخ 1450ء کا پتا دیتی ہے جس کی تفصیل یوں ہے:، تشنشنغ کے عہد میں ’’پوان ‘‘خاندان نے مسجد کو 1341ء میں شہید کردیا تھا اور اس کی تعمیرات کو توڑ دیا تھاجس کی وجہ سے اس کے اصلی خدوخال و علامات کو جاننے کا کوئی راستہ نہیں رہا تھا، لیکن ’’قاعۃ الصلوٰۃ‘‘ یعنی نماز کا ہال تھا جس کی تعمیر 1350 ء میں مکمل ہوئی پھر بیسویں صدی میں دوسری مرتبہ منہدم کردیا گیا ۔اب ہم جب موجودہ مسجد کو دیکھتے ہیں تو ’’قوانغتا‘‘ (المنارۃ) کی سڑک چوکور بنی ہوئی ہے اور زمین کے ایک وسیع و عریض رقبے پر بنی ہوئی ہے، اس کے دروازے کے سامنے ایک چھوٹا سا احاطہ ہے جو دس قدم اندر تک پھیلا ہوا ہے۔اندر ایک شاندار اور مضبوط ٹاور چاند دیکھنے کے لیے ہے جہاں سے عمارت ، زینہ اور چھت کی دونوں ہی گزر گاہیں نظر آتی ہیں ، ایک گزرگاہ مسجد کے مشرقی صحن کو جاتی ہے اور دوسری اس کے مغربی جانب جاتی ہے اور اس پر دونوں جانب صنوبر کے ہرے بھرے درخت لگے ہوئے ہیں جو اس کی شان ، چمک دمک اور خوبصورتی میں مزید اضافہ کر رہے ہیں۔
قاعۃ الصلوٰۃمسجد میں ایک بلند چبوترہ موجود ہے، جو تقریباً نو فٹ اونچا ہے۔ اس پر نماز کی ادائیگی کے لیے ایک وسیع ہال تعمیر کیا گیا تھا، جو چینی طرزِ تعمیر کے مطابق محل نما شکل رکھتا تھا۔ یہ ہال 1934ء میں منہدم ہوگیا، جس کے بعد مینار کی مرمت مکمل ہونے پر عوامی چندے سے اس کی دوبارہ تعمیر کی گئی۔ تاہم اس عظیم منصوبے کی تکمیل میں مقامی مسلمانوں کو بے شمار مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ سب سے تکلیف دہ بات یہ تھی کہ ہال کے منہدم ہوجانے کے بعد ان کے پاس نماز کی ادائیگی کے لیے کوئی مناسب جگہ باقی نہ رہی تھی۔ 1935ء میں اس ہال کی ازسرِنو تعمیر کے لیے اس کی باقی ماندہ دیواریں گرانے کا فیصلہ کیا گیا۔ حیرت انگیز بات یہ تھی کہ چنائی کے دوران بعض تحریری نقوش اور کتبے بھی دریافت ہوئے۔ یہ ہال نہایت وسیع رقبے پر مشتمل تھا اور اپنی خوب صورت ساخت، کشادہ منظر اور چینی محلاتی طرزِ تعمیر کی نمایاں خصوصیات کی وجہ سے منفرد حیثیت رکھتا تھا۔
1949ء میں عوامی جمہوریۂ چین کے قیام کے بعد حکومت نے ہوا یشینگ مسجد کی مرمت اور بحالی کے لیے متعدد مرتبہ مالی اور انتظامی معاونت فراہم کی، جس کے نتیجے میں مسجد کی خوب صورتی، شان و شوکت اور تعمیراتی حسن میں مزید اضافہ ہوا۔ تاہم اس مسجد کی اصل اہمیت صرف اس کی تاریخی یا تعمیراتی عظمت نہیں، بلکہ یہ بھی ہے کہ یہ اللہ کے گھروں میں سے ایک گھر ہے، جہاں چینی مسلمان اور دور دراز سے آنے والے مسافر آج بھی نماز ادا کرتے ہیں۔ یہی روحانی وابستگی اس مسجد کے حسن کو مزید دوبالا کرتی ہے۔ بعد ازاں جب اسے قوانغ ژو کے تاریخی آثار میں شامل کیا گیا تو یہ مقامی اور غیر ملکی سیاحوں کے لیے بھی ایک اہم تاریخی اور مذہبی مقام بن گئی، اور یوں شہر قوانغ ژو کی نمایاں تاریخی یادگاروں میں اس کا شمار ہونے لگا۔



